بنگلورو،31؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی)ایس ایس ایل سی امتحان کے دوران باحجاب طالبات کو حجاب کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت پر سات ٹیچروں کو معطل کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پرائمری اور سکینڈری تعلیم کے وزیر بی سی ناگیش نے اس تعلق سے بتایا کہ اُنہیں اس بات کا علم ہے کہ تین امتحانی مراکزمیں نگرانی کرنے والوں کو معطل کیا گیا ہے۔
بی سی ناگیش کا کہنا ہے کہ ریاست کرناٹک میں اگر معطل کیے جانے والوں کی تعداد سات ہو گئی ہے تو اس کی وجہ حجاب نہیں ہے۔ اس کے پیچھے حکومتی قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق دیگر وجوہات ہوسکتی ہیں۔ حجاب کے خلاف بیان دے کر سُرخیاں بٹورنے والے وزیر تعلیم نے بتایا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے کہاہے کہ اسلام میں حجاب لازمی نہیں ہے۔ لہٰذا اسکولوں اور کالجوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ڈریس کوڈ کو نافذ کریں اور ان پر عمل کیا جائے۔ اس بار 100 سے زیادہ طالبات نے اس وجہ سے امتحان چھوڑ دیا جبکہ کئی طالبات نے اسپیشل روم میں جا کر حجاب کو اتارا اور پھر امتحان میں شریک ہوئیں۔
بتایا گیا ہے کہ جن اساتذہ کو معطل کیا گیا ہے ان کے خلاف دائیں بازو کی تنظیموں نے شکایت درج کرائی تھی۔ پتہ چلا ہے کہ شدت پسند تنظیموں کے اراکین امتحانی مراکز کے قریب جاکر اس بات کی جانچ کرتے ہیں کہ کون طالبہ حجاب میں ہے، کون طالبہ امتحان گاہ میں حجاب کے ساتھ بیٹھی ہے، پھر وہ اُن کی وڈیو ریکارڈ کرکے محکمہ تعلیم کے آفسران کو روانہ کرتے ہیں اورتحریری شکایت بھی دیتے ہیں کہ فلاں ٹیچر نے باحجاب طالبات کو حجاب اُتارنے سے نہیں روکا ہے۔